اصلی کوہ سینا
ہ سینا سعودی عرب میں واقع ہےکیا اصلی کو
بھائی اختر صاحب نے کوہ حورب کا تذکرہ کیا تو جستجو جاگی کہ یہ پتہ لگایا جائے کہ بائبل مقدس اس بارے میں کیا کیا نشان اور سراغ فراہم کرتی ہے. اس کھوج کا ماحصل یہ رہا :
1. سیدنا موسیٰ علیہ السلام مصر سے جان بچانے کے لیے نکلے تو چلتے چلتے مدین یا مدائن یا مدیان نامی علاقے میں پہنچ گئے. (خروج 15:2)صاف ظاہر ہے کہ یہ علاقہہ سینا سعودی عرب میں واقع ہے؟ ایک نئی تحقیق. مسیحی روایت کا تجزیہ فرعون مصر کی عملداری سے باہر تھا وگرنہ انہیں گرفتار کر لیا جاتا.یہ علاقہ بلاد عرب میں واقع ہے اور آج کل سعودی عرب کے صوبہ تبوک کی حدود میں ہے. یعنی کہ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یہ علاقہ مصر (افریقہ) کی حدود میں نہیں آتا.
2. سیدنا موسیٰ علیہ السلام پہلے پہل اپنے سسر کی بکریاں چرانے کی خدمت پر مامور ہوئے تھے. وہ ایک دن بکریاں چراتے چراتے حوریب نامی پہاڑ کے پاس پہنچ گئے. توریت شریف میں آتا ہے :موسیٰ مدیان کے کاہن اپنے سسر یترو کے گلّے چراتا تھا تو اس نے گلّے کو بیابان کی پرلی طرف ہانکا یہاں تک کہ وہ خدا کے پہاڑ حوریب کے نزدیک آیا (خروج 1:3)
3. وہیں جھاڑی کے بیچ خدا کا فرشتہ آگ میں ان پر ظاہر ہوا اور خدا کا پیغام انہیں دیا. (خروج 2:3 تا 6) صاف ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام بکریاں چراتے چراتے اتنی دور نہیں نکل گئے تھے کہ وہ مصر کی حدود میں داخل ہو گئے تھے. جس جگہ کو آج کل حوریب قرار دیا جاتا ہے وہ جگہ مدیان سے 400 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے. یعنی کہ انہیں آنے جانے میں آٹھ سو کلومیٹر کا سفر درکار تھا . یہ بات یاد رکھیں کہ شہر تبوک سے مغارہ شعیب چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور شہر تبوک سے کوہ سینا کا نزدیک ترین فاصلہ 431 کلومیٹر ہے. یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے کہ موسیٰ بکریاں چراتے چراتے دشوار راستوں سے ہوتے ہوئے اتنا طویل سفر طے کر گئے تھے. یہ عذر بھی قابلِ قبول نہیں ہے کہ حوریب اور کوہ سینا الگ الگ ہیں. اس کی تصریح آیندہ سطور میں ہو جائے گی.
4. اب اس بات کی وضاحت کہ حوریب اور کوہ سینا ایک ہی پہاڑ کے نام ہیں.
(الف) خدا نے موسیٰ سے وعدہ کیا کہ وہ کوہ سینا پر اترے گا. (خروج 12:19) اور ایسا ہی ہوا. یہ سب تفصیل اسی باب کی ورس 16 تو 20 میں موجود ہے.
(ب) کتاب استثناء میں بتایا گیا ہے کہ یہ سب معاملات کوہ حوریب پر پیش آئے تھے. (استثناء 10:4)
(ج) کتاب خروج کے باب 20 میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر کوہ سینا پر خدا نے احکامات عشرہ پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا. یہی حکم استثناء 13:4 میں کوہ حوریب پر دیا گیا. پس کوہ حوریب اور کوہ سینا ایک ہی ہیں کیونکہ خدا کا بنی اسرائیل پر اس طرح کا ظہور ایک ہی مرتبہ ہوا تھا دوبار نہیں. اس لیے لازم ہے کہ کوہ سینا اور کوہ حوریب کو ایک ہی پہاڑ تسلیم کیا جائے وگرنہ توریت شریف میں تضاد کا وقوع تسلیم کرنا پڑے گا.
5. اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ توریت شریف کی اس آیت کی تشریح بھی کی جائے کہ موسیٰ علیہ السلام نے گلّے کو بیابان کی طرف ہانکا یہاں تک کہ وہ حوریب یعنی کہ کوہ سینا کے قریب پہنچ گئے. بیابان میں بکریوں کی کثیر تعداد کے ہمراہ سفر کرنا بہت مشکل کام تھا. اگر گرمیوں کے دن تھے تو بغیر پانی کے اتنا طویل سفر بیابان میں ممکن نہیں تھا اور اگر موسم سرما تھا تو صحرا میں رات کو پڑنے والی سردی کی شدت اس سفر کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ تھی. اس صورت میں بھی اتنا طویل سفر ناممکن تھا. با الفاظِ دیگر اتنے بڑے ریوڑ کے پانی یا سردی سے بچنے کے لیے کسی انتظام کی عدم موجودگی میں یہ سفر ہر لحاظ سے ناممکن تھا. پس توریت میں دیا گیا کوہ حوریب کا محل وقوع قابل اعتماد نہیں.
نتیجہ :
1.کوہ حوریب اور کوہ سینا ایک ہی پہاڑ کے دو نام ہیں. یہیں پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کوجلتی جھاڑی نظر آئی تھی اور یہی جگہ مقدس قرار دی گئی تھی اور یہیں خدا کا ظہور ہوا اور یہیں احکامات عشرہ ودیعت کئے گئے. لازمی ہے کہ کوہ حوریب اور سینا کو مندرجہ بالا وجوہات کی بنا ایک ہی سمجھا جائے. بصورتِ دیگر توریت شریف میں زبردست تضاد واقع ہو جائے گا.
2. لازمی ہے کہ یہ پہاڑ مدیان شہر کے قریب واقع ہو نا کہ وہاں سے چار سو کلومیٹر دور کیوں کہ موسیٰ بکریاں چرانے کے لیے آٹھ سو کلومیٹر دور کا طویل سفر ، تن تنہا بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ نہیں طے کر سکتے تھے. اس صورت میں یہ پہاڑ مصر میں نہیں عرب میں واقع ہونا چاہیے. پس مصر میں کوہ سینا یعنی حوریب کے پہاڑ کا ہونا قابل تسلیم نہیں کیونکہ یترو کاہن کا شہر آج بھی سعودی حدود یعنی عرب میں شامل ہے نا کہ مصر یعنی کہ غیر عرب میں.
Comments
Post a Comment