لطیفے بہت لطیف ہوتے ہیں

 

محفل میں سناٹا چھایا ہوا ہو اچانک کوئی مزاق کی بات کردے تو خاموشی مسکراہٹ میں بد جاتی ہے پھر ایک سلسلہ قہقہوں کا چل جاتا ہے اور ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھکر مزاحیہ بات کہتا ہے خاموشی اور اکتا ہٹ لفظوں کے نشیب وفراز سے مسکراہٹوں میں بدل جاتی ہے ان مسکراتی باتوں کو ہم اکثر لطیفہ کہتے ہیں
لطیفہ الفاظ کی ایسی ترتیب ہوتا ہے جس میں خاص بیانیئے کے لیے مخصوص الفاظ کو بہترین طریقے سے چنا جاتا ہے۔ لطیفے کا مقصد لوگوں کو ہنسانا ہوتا ہے اور بظاہر اِسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ لطیفہ ایک بہت چھوٹی کہانی کی شکل ہے جس کا اختتام پنچ لائن پر ہوتا ہے۔ جب لوگ اِس کہانی کی پنچ لائن پر پہنچتے ہیں تو تب انہیں پتا چلتا ہے کہ لطیفے کی ابتدائی کہانی کا اصل مقصد کچھ اور تھا۔ ہنگری کے مشہور ماہر لسانیات رابرٹ ہیزرون کے مطابق لطیفہ زبانی ادب کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہوتا ہے جس کا مذاق اس چھوٹی سی کہانی کے آخری جملے میں عروج پر پہنچ کر ختم ہوتا ہے جسے پنچ لائن کہا جاتا ہے۔ اس کہانی کی ایک شرط ہوتی ہے کہ سننے یا دیکھنے والے کی توجہ کہانی پر مسلسل موجود رہے اور اختتام تک ضرور پہنچے۔ عموماً لطیفے گھڑنے والے ادیبوں کے نام کسی کے علم میں نہیں ہوتے۔ لطیفے زبانی ادب کا حصہ ہوتے ہیں لیکن انہیں اشاعتی صورت میں بھی لایا جاتا ہے
لطائف معاشرے میں ہلکے پھلکے مزاح اور تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ کوئی بھی مختصر کہانی جس کا اختتام مزاحیہ نتیجے پر ہو لطیفے کے طور پر ہی لی جاتی ہے۔
ادب اور شاعری کی طرح لطیفے بھی نسل در نسل منتقل ہوتے رہتے ہیں البتہ یہ ضروری نہیں کہ اس دوران الفاظ میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہو، لیکن مفہوم اور نتیجہ وہی رہتا ہے۔
اکثر لطیفے لوگوں کی ذاتی زندگی پر بھی مبنی ہوتے ہیں۔ رزومرہ زندگی میں میاں بیوی، استاد شاگرد، دوست اور رشتہ داروں پر بھی لطیفے بنائے جاتے ہیں۔
ٹوئٹر ہینڈل ’یو جی‘ نے اس موضوع سے متعلق بات کرتے ہوئے لکھا کہ شادی شدہ افراد سے متعلق لطیفوں میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ شوہر بیوی سے بہت ڈرتا ہے اور گھر سارا کام بھی کرتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوتا اگر گھر کا کام کر لیا تو جناب کو کیا تکلیف ہے اسکا گھر ہے اسکی بیوی ہے اس کا حکم مان لیا تو کیا ہوا بیوی سہیلی سے بہن دنیا میں اچھا شوہر کسی کو نہیں ملتا بس جو ملا ہوا ہے اسے ہی ٹھوک پیٹ کر اچھا بنایا جاسکتا ہے اور شوہر صاحب کے بیوی کے بارے میں خیالات کیا ہیں بیوی صدقہ دیا کرو بلائیں ٹلتی ہیں اچھا تو تمھارے ابا نے کوئی بڑا صدقہ دیا ہو گا جن سے یہ بلا ٹل کے میرے گلے پڑ گئی ہے لطیفے جیسے افراد پہ بناے جاتے ہیں ایسے قوموں پر بھی بناے جاتے ہیں کے ہے۔ ’لطیفے بوڑھے جوان ہر انسان جانوروں پر بھی بناے گے یعنی کسی کو چھوڑا نہیں گیا بے اب اس بے چارے کی بھی سن لیں آپ کی نظر محترم داود کی طرف نہ اٹھ جاے یہ ویسے بات کر رہا ہوں ان صاحب نے جب اپنی خواش ظاہر کی اور سب کی ماننا چاہے تو کیا ہوا
دادا دادی کہتے ہیں کہ ہمارا پوتا ہماری پسند کی شادی کریگا۔۔
امی ابو کہتے ہیں کہ ہمارا بیٹا ہماری مرضی کی شادی کریگا۔۔
بہن کہتی ہے کہ میرے بھائی کو لڑکی میں سلیکٹ کروں گی۔
اور جب میں بولتا ہوں کہ چار شادیاں کر لوں گا آپ سب کی پسند کی لڑکیوں سے۔
تو پھر سب مل کے مجھے مارتے ہیں اور بےعزتی کی کلاس سٹارٹ ہوجاتی ہے۔
تو اب آپ ہی مجھے بتادیں کہ میں کس کی مان لوں
بات تو جناب کی ٹھیک ہے مرضی کادور ہے بھائی ہم مشورہ دیکر بیلن نہیں کھانا کسی نے پوچھا بابا جی گھڑی اور بیوی میں کیا فرق ہے بابا جی بولے بیٹا ایک بگڑتی ہے تو بند ہو جاتی ہے دوسری بگڑتی ہے تو شروع ہو جاتی ہے ۔۔۔ کسی عقلمند نے کہا شادی کے ایکسال بعد پتہ چل جاتا ہے میاں بیوی کے جتنے لطیفے سنے تھے وہ صرف لطیفے نہیں حقییقی تجربے تھے اور یہ سچ تھا جسے ہم شادی سے پہلے لطیفہ سمھجتے تھےمیاں بیوی کا رشتہ جملہ انسانی رشتوں میں اپنی نوعیت کا واحد اور انوکھا ”رشتہ“ ہے، جو انسان خود ”بنا“ بھی سکتا ہے اور خود ہی ”ختم“ بھی کرسکتا ہے۔ کسی اور انسانی رشتہ کو نہ تو اپنی مرضی سے بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔
میاں بیوی کا رشتہ دنیا کا سب سے پہلا رشتہ بھی ہے اور ایک ”مرکزی رشتہ“ بھی کہ اسی مرکزی رشتہ سے تمام ذیلی اور طفیلی رشتے جنم لیتے ہیں۔
یہ رشتہ دیگر رشتوں کے مقابلہ میں سب سے ”زیادہ مضبوط“ اور سب سے ”زیادہ قریبی“ ہونے کے باوجود ”سب سے زیادہ نازک“ بھی ہوتا ہے کہ اسے ٹوٹنے اور ختم ہونے میں ذرا دیر نہیں لگتی۔
دیگر تمام رشتوں کے درمیان ایک خاص ”حد فاصل“ ہوتا ہے۔ اسی ”فاصلہ“ کی وجہ سے عام رشتہ دار اپنے اپنے ”عیوب اور دیگر متنازعہ معاملات“ ایک دوسرے سے چھپا کر بھی رکھ سکتے ہیں۔ خفا ہوں تو ایک دوسرے سے ”دور“ رہ سکتے ہیں۔ جبکہ میاں بیوی کے رشتہ کے درمیان ”کوئی پردہ اور کوئی فاصلہ“ نہیں ہوتا۔ اور چونکہ یہ دونوں ایک جیتے جاگتے مکمل مگر الگ الگ انسان بھی ہوتے ہیں، جن کے سوچنے سمجھنے کا الگ الگ انداز ہوتا ہے۔ اس لئے یہ ”دو منفرد انسان“ جب ایک ”کھونٹے“ سے ایک ساتھ باندھ دیئے جاتے ہیں تو ان کے درمیان لمحہ بہ لمحہ ”اختلافات رونما“ ہونے لگتے ہیں۔ جو زبانی جنگ کے آغاز سے ہاتھا پائی تک بلکہ اس سے آگے بھی پہنچ سکتے ہیں بلکہ کبھی کبھار پہنچ بھی جاتے ہیں۔مگر جب انہیں ا حساس ہوتا ہے کہہم ایک بندھن کیساتھ بندھیں تو یہ اختلافات کبھی کبھی مسکراہٹوں میں بدل جاتے ہیں خاوند کی طرف سے کبھی ایسی بات ہو جاتی ہے جو بیوی کی مسکراہٹ کا زریعہ بن جاتی ہے یہ ہی مسکراہٹ بھرے لفظ جب باہر نکلتے ہیں تو میاں بیوی کا لطیفہ کہلاتے ہیں دیکھئے ان صاحب سے جب بیوی نے پو چھابیوی:
آپ کو میری خوب صورتی اچھی لگتی ہے یا عقل مندی

میاں:

تمہاری یہ مذاق کرنے کی عادت اچھی لگتی ہے۔
تیرا بھلا ہو جاے کیا جواب دیا ہے
میاں بیوی کے بارے میں طنزو مزاح کے جو نشتر چلے ہیں وہ بہت زیادہ ہیں نامعلوم انہیں کسی دوسرے سیارے کی مخلوق سمھجا جاتا ہے دیکھے یہ کیا فر مارہے ہیں اگر شادی سے پہلے مرد نے عورت کے ہاتھ تھامے ہوں تو وہ ہوتا ہے

پیار

اگر شادی کے بعد مرد نے عورت کے ہاتھ تھامے ہوں تو وہ ہوتا ہے

حفاظتی انتظام
بس بھائی اب اس سے آگے ہم کچھ نہیں کہیں گے ڈر ہے کہیں ہم بھی لطیفہ نہ بن جائیں اپنا خیال رکھیں بیگم کا ہاتھ خالی ہے تو سمھجو سب خیر ہے

Comments

Popular posts from this blog

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ

مولوی بے چارہ نورالحسن انور