محفل میں سناٹا چھایا ہوا ہو اچانک کوئی مزاق کی بات کردے تو خاموشی مسکراہٹ میں بد جاتی ہے پھر ایک سلسلہ قہقہوں کا چل جاتا ہے اور ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھکر مزاحیہ بات کہتا ہے خاموشی اور اکتا ہٹ لفظوں کے نشیب وفراز سے مسکراہٹوں میں بدل جاتی ہے ان مسکراتی باتوں کو ہم اکثر لطیفہ کہتے ہیں لطیفہ الفاظ کی ایسی ترتیب ہوتا ہے جس میں خاص بیانیئے کے لیے مخصوص الفاظ کو بہترین طریقے سے چنا جاتا ہے۔ لطیفے کا مقصد لوگوں کو ہنسانا ہوتا ہے اور بظاہر اِسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ لطیفہ ایک بہت چھوٹی کہانی کی شکل ہے جس کا اختتام پنچ لائن پر ہوتا ہے۔ جب لوگ اِس کہانی کی پنچ لائن پر پہنچتے ہیں تو تب انہیں پتا چلتا ہے کہ لطیفے کی ابتدائی کہانی کا اصل مقصد کچھ اور تھا۔ ہنگری کے مشہور ماہر لسانیات رابرٹ ہیزرون کے مطابق لطیفہ زبانی ادب کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہوتا ہے جس کا مذاق اس چھوٹی سی کہانی کے آخری جملے میں عروج پر پہنچ کر ختم ہوتا ہے جسے پنچ لائن کہا جاتا ہے۔ اس کہانی کی ایک شرط ہوتی ہے کہ سننے یا دیکھنے والے کی توجہ کہانی پر مسلسل موجود رہے اور اختتام تک ضرور پہنچے۔ عم...
مدینہ کے درودیوار چمک اٹھے جب حسن کاءنات فخر کائنات جان کائنات محبوب کل ٖ فخر رسل امام الا نبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کا ورود ہوا انصار کے مرد وزن نے پھر آپ کی جود وکرم کی نوازشات کی برکھا برستی دیکھی جہاں مرد حضرات محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آگے بڑھے ہوئے تھے اسی طرح انصار کی عورتیں اپنے حسن سخاوت وضیافت میں ایک دوسرے آگے نکلنے کی کوشش کرتیں ان سلیم الفطرت جود وسخا کی خوگر صحابیات میں ایک النوار بنت مالک بن صرمۃ النجاریۃ الانصاریہ بھی تھیں ۔۔۔۔ انکی شادی ثابت بن ضحاک سے ہوئی جن سے ایک بیٹا ز ید بن ثابت پیدا ہوئے ثابت جنگ بغاث میں قتل ہوئے حضرت زید کی عمر اسوقت 6 سال تھی النوار بڑی دانشمند درست راے بہتر مشورہ دینے کے حوالے سے معروف ومشہور تھیں سفیر اسلام حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مدینہ آے تعلیم اسلام کو عام کیا یہ مہک قرآن وایمان والی النوار تک پہنچی ۔۔ تو صحیح سمت سفر شروع کیا ایما قبول کر کے کامیابی کی منازل طے کرلیں ۔۔۔ ایمان کی حلاوت ہی ایسی ہے جو انسان کے دل ودماغ کے تمام بند د ریچے کھول دیتی ہے ۔۔ اسے اپنے سانسوں میں جنت کی خوشبو محسوس ہوتی ہے اسکے احساسات وجذبات ...
یرانی بادشاہت کی تاریخ کا آخری صفحہ بھی لپیٹ دیا گیا ایرانی بادشاہ قتل ہوا اسکے جر نیل اہل خانہ مسلمانوں کے ہاتھوں قیدی بن گے مال غنیمت کو سمیٹ کر مدینے لایا گیا ان قیدیوں میں یزدگر کی تین بیٹیاں بھی تھیں وہ بلا شبہ حسن وجمال کا پیکر ۔ پری رخ ۔ دوشیزائیں تھیں جب انکی فروخت کی باری آئی تو انکی نظریں جھکی ہوئیں تھیں حسرت ویاس کی وجہ سے انکی غزالی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے انہیں دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر کی خدمت میں عرض کی امیر المومنین بادشاہ کی بیٹیوں سے امتیازی سلوک ہو نا چاہئے ۔، حضرت عمر نے فر مایا اسکی کیا صورت ہوگی آپ بتائیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بولے انہیں اختیا ر دیں جسکے سر پر ہاتھ رکھ دیں وہ ہی ان کا مالک کہلاے گا ۔۔ ان میں سے ایک نے حضرت عبداللہ بن عمر دوسری نے حضرت محمد بن ابو بکر تیسری نے حضرت حسین کو پسند کر لیا رضی اللہ عنھم ۔۔ تھوڑے ہی عرصے بعد دلی رغبت سے مسلمان ہو گیئں غلامی سے آزادی مل گئی لونڈی سے بیوی بن گیئں ماضی کی تمام شرکیہ یادیں یکسر بھلادیں اپنا نام غزالہ رکھ لیا اللہ نے ایک چاند سا بیٹا عطا کیا جسکا نام دادا علی رضی اللہ عنہ کے نام پر علی ...
Comments
Post a Comment