علماء اکرام کے لیے لمحہ فکریہ
علماء کرام کے لئے لمحہ فکریہ
مفتی ناصرالدین مظاہری
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان فیض ترجمان سے بنی نوع انسا کو قیامت کی اس قدرعلامات اورنشانیاں بتلائی ہیں کہ ان علامتوں اورنشانیوں کوہمارے علماء نے جمع کرناشروع کیاتودفتر کے دفتر تیارہوگئے،حضرت مولاناشاہ رفیع الدہلویؒ ،حضرت مولاناعلامہ انورشاہ کشمیریؒ ،حضرت مولانابدرعالم مہاجرمدنیؒ ،حضرت مولانامحمدادریس کاندھلویؒ ،حضرت مولانامحمدیوسف لدھیانویؒ ،حضرت مولانامحمدولی رازی،حضرت مولاناعنایت اللہ اوردورحاضرمیں حضرت مولانامفتی محمدرفیع عثمانی جیسے بلندپایہ علماء ومحققین نے اپنی اپنی تصنیفات میں قیامت کی علامتوں کا اتنابڑاذخیرہ جمع فرمادیاہے جن کو پڑھ کر ایک بہکاہواانسان ہی نہیں بگڑاہواانسان بھی راہ رسات پرآسکتاہے۔
ان کتابوں میں ایک بڑاذخیرہ اسلام کے ان سپوتوں اوررہنماؤں سے متعلق ہے جن کواہل علم کہاجاتا ہے،یہ طبقہ اپنی شاندارخدمات کے باعث ہرزمانہ میں قوم کی نظروں میں ممدوح ومحترم رہاہے تو اسی طبقہ کی بعض کوتاہیوں اورخامیوں سے انسانوں کا ایک بڑا طبقہ بدظنی وبدگمانی کی کیفیت میں مبتلاہوچکاہے۔
علم ایک نورہے اس سے انکارنہیں کیاجاسکتا،علم ایک ہدایت ہے اس کااقرارہرسلیم الطبع انسان کرتاہے،علم ایک راہبراورراہنماہے اس سے بھی کسی کومجال انکارنہیں ہے،علم جہالت سے بہترہے سبھی جانتے ہیں اورعلم سے حق اورناحق کا علم ہوتاہے اس کے متعلق کسی تفصیل اورتوضیح کی ضرورت نہیں ہے،لیکن علم کوغلط
حضرت علی رضی اللہ عنہ کاارشاد ہیکہ علم حاصل کرواس سے تمہاری پہچان ہوگی اورجو علم حاصل کیا ہے اس پر عمل کرو اس سے تم علم والے ہوجاؤگے کیونکہ تمہارے بعد ایسا زمانہ آئے گا جس میں حق کے دس حصوں میں سے نو کا انکا ر کردیا جائے گا اوراس زماے میں صرف وہ نجات پاسکے گا جو گمنام اورلوگوں سے الگ تھلگ رہنے والا ہوگا ،یہی لوگ ہدایت کے امام اورعلم کے چراغ ہوں گے ،یہ لوگ جلد باز ،بری بات پھیلانے والے اورباتونی نہیں ہوں گے ،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے حاملین علم ! اے علماء !علم پر عمل کروکیونکہ عالم وہ ہے جو علم حاصل کرے پھر اس پر عمل کرے اوراس کا عمل اس کے علم کے مطابق ہو،عنقریب ایسے لوگ ہوں گے جو علم حاصل کریں گے لیکن ان کا علم ان کی ہنسلی کی ہڈی سے آگے نہیں جائے گا (اوراللہ کے ہاں نہیں پہنچے گا )ان کا باطن ظاہر کے خلاف ہوگا اوران کا عمل ان کے علم کے خلاف ہوگا وہ اپنے اپنے حلقے میں بیٹھیں گے اورایک دوسرے پر فخر کریں گے اوران کے حلقہ میں بیٹھنے والا انہیں چھوڑکر دوسرے کے پاس اگر بیٹھے گا تو یہ اس پر ناراض ہوں گے ان کی مجلسوں میں ان کے جو اعمال ہوں گے وہ اللہ کی طرف اوپر نہیں جائیں گے ۔
ایک چونکادینے والی روایت
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک خط آیا جس میں لکھا ہوا تھا کہ کوفہ والوں میں سے بہت سے لوگوں نے اتنا اتنا قرآن پڑھ لیا ،یہ پڑھ کر (خوشی کی وجہ سے )حضرت عمرؓ نے اللہ اکبر کہا( اللہ ان پر رحم فرمائے) میں نے کہاکہ ان میں اختلاف ہوجائے گا ۔انہوں نے فرمایا اوہو!تمہیں یہ کہاں سے پتہ چل گیا ؟اورحضرت عمرؓ کو غصہ آگیا تو میں اپنے گھر چلاگیا اس کے بعد انہوں نے میرے پاس بلانے کے لئے آدمی بھیجا ،میں نے انہیں کوئی عذرکردیا پھر انہوں نے یہ کہلاکر بھیجا کہ میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں کہ تمہیں ضرور آنا ہوگا ،چنانچہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے فرمایا تم نے کوئی بات کہی تھی ؟ میں نے کہا استغفراللہ ! اب دوبارہ نہیں کہوں گا ،فرمایا میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں کہ تم نے جو بات کہی تھی وہ دوبارہ کہنی ہوگی میں نے کہا آپ نے فرمایا تھا کہ میرے پاس خط میں یہ لکھا ہوا آیا ہے کہ کوفہ والوں میں سے بہت سے لوگوں نے اتنا اتنا قرآن پڑھ لیا ہے اس میں نے کہا تھا کہ ان میں اختلاف ہوجائے گا ،حضرت عمرؓ نے فرمایا تمہیں یہ کہاں سے پتہ چلا؟ میں نے کہا میں نے یہ آیت وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہٗ فِیْ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیُشْھِدُا للّٰہَ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہٖ سے لے کر وَاللّٰہُ لاَ یُحِبُّ الْفَسَاد تک پڑھی (سورۃ بقرہ)
ترجمہ :اوربعضاآدمی ایسا بھی ہے کہ آپ کو اس کی گفتگو جو محض دنیوی غرض سے ہوتی ہے مزہ دار معلوم ہوتی ہے اور وہ اللہ کو حاضر وناظر باتا ہے اپنے مافی الضمیر پر حالانکہ وہ (آپ کی مخالفت میں )نہایت شدید ہے اورجب پیٹھ پھیرتا ہے تو اس دوڑ دھوپ میں پھر تا رہتا ہے کہ شہر میں فساد کردے اور(کسی کے )کھیت یا مواشی کو تلف کردے اوراللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتے جب لوگ اس طرح کریں گے تو قرآن والا صبر نہیں کرسکے گا پھر میں نے یہ آیت پڑھی وَاِذْ قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُہٗ جَہَنَّمَ وَلَبِءْسَ الْمِھَادُ۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ رَؤفٌ بِالْعِبَادِ(سورہ بقرہ )
ترجمہ :اورجب اس سے کوئی کہتا ہے کہ خدا کا خوف کرتو نخوت اس کو اس گناہ پر (دونا)آمادہ کردیتی ہے سوایسے شخص کی کافی سزا جہنم ہے اوروہ بری ہی آرام گاہ ہے اوربعضا آدمی ایسا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں اپنی جان تک صرف کرڈالتا ہے اوراللہ تعالیٰ ایسے بندوں کے حال پر نہایت مہربان ہیں ،،حضرت عمرؓ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! تم نے ٹھیک کہا ۔(حاکم ۳/۵۴۰ )
ان سطور میں مسلمانوں کی عمومی حالتوں کا موازنہ کرنامقصودنہیں بلکہ امت کے اس طبقہ سے متعلق چندگزارشات پیش کرنی مقصودہیں جوامت کے سرخیل،قوم کے راہبر،ملت اسلامیہ کے قائد اورسواداعظم کہلائے جاتے ہیں۔
صحابی رسول حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ کے بقول
ایک حافظ قرآن کے لئے ضروری ہے کہ رات کو لوگ جب سورہے ہوں تو وہ اللہ کی عیادت کررہا ہو۔
دن کو لوگ جب بغیر روزہ کے ہوں تو وہ روزہ دار ہو۔
جب سب لوگ خوش ہورہے ہوں تو وہ امت کے غم میں غمگین ہو۔
جب لوگ ہنس رہے ہوں تو وہ اللہ کے سامنے رورہا ہو۔
جب لوگ آپس میں مل کر ادھر اُدھرکی باتیں کررہے ہوں تو وہ خاموش ہو۔
جب لوگ اکڑرہے ہوں تو وہ عاجزاورمسکین بناہوا ہو ۔
مذکورالصدرچیزوں کے علاوہ ایک اچھے حافظ قرآن،سچے عالم دین اورپکے خادم قوم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ کی یادمیں رونے والابھی ہو،امت کے غم میں غمگین بھی ہو،حکمت وبردباری جیسی خوبیاں بھی ہوں،علم کے زیورسے پورے طورپرلیس وقاروتمکنت کے ساتھ معاشرہ میں صاف وشفاف زندگی کوگزارنے کا ہنر جانتاہو۔
عوام وخواص کے ساتھ بدسلو کی کا برتاؤ ،غفلت شعاری ،شور وہنگامہ،چیخ وپکار اورمزاج کی تیزی نہیں ہونی چاہیے ۔
ایک اورروایت میں ہے کہ تم اس کی پوری کوشش کروکہ تم سننے والے بنو یعنی سنانے سے زیادہ اچھے لوگوں کو سنا کرو اور جب سنو کہ اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں اے ایمان والو !تو اپنے کان اس کے حوالے کردو (یعنی پورے غورسے اسے سنو )کیونکہ یا تو اللہ تعالیٰ خیر کے کام کا حکم دے رہے ہوں گے یا کسی برے کام سے روک رہے ہوں گے ۔
آج کے حالات کے تناظرمیں اگرعقل ونظرکی کسوٹی پرپرکھاجائے تومعلوم ہوجائے گاکہ چھوٹی چھوٹی عمرکے لوگ اپنے بڑوں کو پیچھے چھوڑچکے ہیں،چھوٹوں کی ہمت وحوصلہ افزائی،کچھ کرگزرنے کاجذبہ،ملک وملت کے لئے ایک صحیح اورمثبت کام کاعزم وارادہ انھیں کہیں سے کہیں بلندیوں پرپہنچارہاہے تودوسری طرف معاشرہ بعض بڑوں کی سردمہریاں،کچھ نہ کرنے دینے کامزاج،نقدوتنقید،جرح وجراحت،حوصلہ شکنی،اپنی کبرسنی کے باعث تکبروحسداوراپنی ترقیات میں حارج سمجھ کراپنی فکری کجروی،فرسودہ خیالی اورحاقدانہ وناقدانہ طبیعت سے مجبورہوکراپنے چھوٹوں کوکچھ کرنے نہیں دیتے۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہارااس وقت کیا حال ہوگا جب تم میں ایک زبردست فتنہ اٹھے گا جس میں کم عمر تو بڑھ جائے اورزیادہ عمر والا(چھوٹوں کے کام کودیکھ کر) بوڑھاہوجائے گا ،نئے طریقے ایجاد کرکے اختیار کرلئے جائیں گے اوراگر کسی دن انہیں بدلنے (اورصحیح اورمسنون طریقہ لانے )کی کوشش کی جائے گی تو لوگ کہنے لگیں گے یہ تو بالکل اجنبی اوراوپرا طریقہ ہے ،اس پر لوگوں نے پوچھا ایسا فتنہ کب ہوگا ؟ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا جب تمہارے امین لوگ کم ہوجائیں گے اورتمہارے امراء وحکام زیادہ ہوجائیں گے اورتمہارے دین کی سمجھ رکھنے والے کم ہوجائیں گے اورتمہارے قرآن پڑھنے والے زیادہ ہوجائیں گے اوردین کے غیر یعنی دنیا کے لئے دینی علم حاصل کیا جائے گا اورآخرت والے عمل سے دنیاطلب کی جائے گی اورایک روایت میں یہ ہے کہ نئے طریقے گھڑے جائیں گے جس پر لوگ چلنے لگیں گے اورجب اس میں کچھ تبدیلی کی جانے لگے گی تو وہ لوگ کہیں گے ہمارا معروف طریقہ بد لا جارہا ہے اوریہ بھی ہے کہ تمہارے دین کی سمجھ رکھنے والے کم ہوجائیں گے اورتمہارے امراء وحکام خزانے بھرنے لگیں گے ۔
قراء کی زیادتی اورفقہاء کی کمی بھی قیامت کی علامت ہے
حکیموں کے حکیم اورداناؤوں کے دانانے کیاعجیب بات ارشادفرمائی ہے کہ
میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں ’’قاری‘‘بہت ہوں گے مگر ’’فقیہ‘‘کم عم کا قحط ہوجائے گا اورفتنہ وفساد کی کثرت پھر اس کے بعد ایک اورزمانہ آئے گا جس میں میری امت کے ایسے لوگ بھی قرآن پڑھیں گے جن کے حلق سے نیچے قرآن نہیں اترے گا (دل قرآن کے فہم اورعقید ت واحترام سے کورے ہوں گے )پھر اس کے بعد ایک اورزمانہ آئے گا جس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والا مومن سے دعویٰ توحید میں حجت بازی کرے گا (کنز العمال ۱۴/۲۱۷)
علماء سوء کافتنہ
حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک زمانہ آئیگا جس میں اسلام کا صر ف نام باقی رہ جائیگا اور قرآن کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے ان کی مسجدیں بڑی بارونق ہوں گی مگر رشد وہدایت سے خالی اورویران ۔ان کے (نام نہاد) علماء آسمان کی نیلی چھت کے نیچے بسنے والی تمام مخلوق سے بد تر ہوں گے ،فتنہ ان ہی کے ہاں سے نکلے گا اوران ہی میں لوٹے گا (یعنی وہی فتنہ کے بانی بھی ہوں گے اوروہی مرکزومحوربھی ) (بیہقی فی شعب الایمان ،مشکوۃ شریف ۳۸)
اہل حق اورعلماء سو کے درمیان حد فاصل
حضرت انس رضی اللہ عنہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ؐ نے فرمایا : علماء کرام ، اللہ کے بندوں پر رسولوں کے امین اورحفاظت دین کے ذمہ دار ہیں بشرطیکہ وہ اقتدار سے گھل مل نہ جائیں اوردینی تقاضوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے دنیا میں نہ گھس پڑیں لیکن جب وہ حکمرانوں سے شیر وشکر ہوگئے اوردنیا میں گھس گئے تو انہوں رسولوں سے خیانت کی پھر ان سے بچو اوران سے الگ رہو۔
(عن انس کنز العمال ۱۰/۲۰۴)
دنیا کے لئے دین فروشی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان تاریک فتنوں کی آمد سے پہلے پہلے نیک اعمال کرلو جو اندھیری رات کی تہ بہ تہ تاریکیوں کے مثل ہوں گے ،آدمی صبح کو مومن اورشام کو کافر ، شام کو مومن ہوگا اورصبح کو کافر ،دنیا کے چند ٹکو ں کے بدلے اپنا دین بیچتا پھرے گا (معاذ اللہ) (صحیح مسلم ۱/۷۵)
حسن قرأت کے مقابلوں کا فتنہ
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کو عرب کے لب ولہجہ اورآواز میں پڑھا کر و،بوالہوسوں کے نغموں کی طرح پڑھنے اوریہود ونصاری کے طرز قرأت سے بچو ، میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو قرآن کو موسیقی اورنوحہ کی طرح گاگاکر پڑھا کریں گے (قرآن ان کی زبان ہی زبان پر ہوگا )حلق سے بھی نیچے نہیں اترے گا ان کے دل بھی فتنہ میں مبتلا ہوں گے اوران لوگوں کے دل بھیی جن کو ان کی نغمہ آرائی پسندآئے گی (بیہقی )
جاہل مفتی
حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ لوگوں کے سینے سے نکال لے بلکہ علماء کو ایک ایک کرکے اٹھاتا رہے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں رہیگا تو لوگ جاہلو ں کو پیشوا بنالیں گے ان سے مسائل پوچھیں گے وہ جانے بوجھے بغیر فتویٰ دیں گے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اوردوسروں کو بھی گمراہ کریں گے (متفق علیہ مشکوۃشریف )
علماء اورحکام
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں ایک جماعت ہوگی جو دین کا قانون خوب حاصل کرے گی اورقرآن بھی پڑھے گی پھر وہ کہیں گے آؤ ہم ان حاکموں کے پاس جاکر ان کی دنیا میں حصہ لگائیں اوراپنا دین ان سے الگ رکھیں لیکن ایسا نہیں ہوسکتا جیسے کانٹے دار درخت سے سوائے کانٹوں کے اورکچھ حاصل نہیں ہوسکتا اسی طرح ان حکام کے پاس جاکر بھی گناہوں کے سوا کچھ نہیں ملے گا ‘‘۔ (ابن ماجہ ص ۲۲)
بد عملی کے نتائج
حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ہولناک چیز کا تذکر ہ فرمایا اورفرمایا کہ یہ اس وقت ہوگا جب علم جاتا رہے گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اورعلم کیسے جاتا رہے گا جب کہ ہم خودقرآن پڑھتے ہیں اوراپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں ،ہماری اولاد اپنی اولاد کو پڑھائے گی اورتا قیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا ؟ فرمایا :زیاد !تیری ماں تجھے گم پائے (یعنی تو مرجائے )میں تو تجھے مدینہ کے فقیہ تر لوگوں میں سے سمجھتا تھا (مگر تعجب ہے کہ تم تو اتنی سی بات کو بھی نہیں سمجھ پائے آخرتمہیں علم کے اٹھ جانے پر تعجب کیوں ہونے لگا )کیا یہ یہود ونصاریٰ تو رات وانجیل نہیں پڑھتے لیکن ان کی کسی بات پر تو عمل نہیں کرتے (اسی بدعملی کے نتیجہ میں یہ امت بھی وحی کی برکات کھوبیٹھے گی پس بے معنی قیل وقال رہ جائے گی ‘‘)
دینی مسائل میں غلط قیاس آرائی
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم پرآئندہ سال پہلے سے برا آئے گا میری مراد یہ نہیں کہ پہلا سال دوسرے سال سے غلہ کی فراوانی میں اچھا ہوگا یا ایک امیردوسرے امیر سے بہتر ہوگا بلکہ میری مراد یہ ہے کہ تمام علماء صالحین اورفقیہ ایک ایک کرکے اٹھتے جائیں گے اورتم ان کا بدل نہیں پاؤگے اوراور(قحط الرجال کے اس زمانہ میں)بعض ایسے لوگ پیدا ہوں گے جودینی مسائل کو محض اپنی ذاتی قیاس آرائی سے حل کریں گے ۔(دارمی ص ۱/۵۸)
ضرورت ہے افرادسازی کی فیکٹریوں کی
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے چھوٹوں کوآگے بڑھائیں، نئے دماغوں ،نئے چہروں اورنئے عزم وارادوں سے لیس نئی نسل کوکام کے بہترسے بہترطریقے بتلائیں اوران کو دین کا سچا،اچھااورپکاخادم بناکر افرادسازی کی ایسی فیکٹریوں کو وجودبخشیں جس سے کبھی کوئی خام مال پیدانہ ہو،دین کودین کے سچے خادم ہروقت اورہمہ وقت مل سکیں اورپھر قوم کایہ دکھڑا اوررونابھی دورہوجائے کہ قحط الرجال کازمانہ ہے،افرادسازی نہیں ہورہی ہے،ڑازی اورغزالی پیدانہیں ہورہے ہیں،عوام کو ان کی توقعات کے مطابق علماء،حفاظ،قرا،دعاۃ اورمبلغین ومقررین نہیں مل پارہے ہیں۔
نہیں نومیدہے اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرانم ہوتویہ مٹی بڑی زرخیزہے ساقی
Comments
Post a Comment