امام ابوبکر الباقلانی رحمۃ اللہ

 امام ابوبکر الباقلانی رحمۃ اللہعلم کلام کے ماہر اور اشعری مذہب پر تھے اصل میں بصری تھے لیکن بغداد میں آباد ہوگئے تھے ،

پیدائش: 950 عیسوی, بصرہ, عراق
وفات: 5 جون، 1013, بغداد, عراق
اللہ نے علم وفراست سے بہت زیادہ نوازا تھا حاضر جوابی کا تو جواب نہیں تھا تاریخ بغدادی جلد 2صفحہ 456میں بھی سیر الااعلام النبلاء میں بھی ان کے بارے میں لکھا ہے
.
ابو بکر الباقلانی رحمہ اللہ اپنے زمانے کے بڑے عالم تھے اس لیے عراق کے گورنر نے روم کے بادشاہ کی جانب سے مناظرے کے چیلنج کے جواب میں 371 ہجری میں آپ کو قسطنطینیہ روانہ کیا۔
جب روم کے بادشاہ کو معلوم ہواکہ خلیفہ کی طرف سے مناظرے کے لیے بھیجے جانے والے عالم ابو بکر الباقلانی پہنچنے والے ہیں تو اپنے آس پاس موجودلوگوں کو حکم دیا کہ ان کہ دروازے سے داخل ہونے سے پہلے دروازے کے بالائی حصے کو نیچے کیا جائے تا کہ وہ جھک کر اندر آنے پرمجبور ہواورایسا لگے کہ بادشاہ کے سامنے جھک گئے۔
جب امام دروازے پر پہنچے تو سمجھ گئے کہ کیوں ایسا کیا گیا ہے اس لیے منہ باہر کی طرف کر کے اور پشت بادشاہ کی طرف کر کے دروازے سے داخل ہوئے!
بادشاہ سمجھ گیا کہ ذہانت اس عالم پر ختم ہے!!
الباقلانی اندر آئے اور سلام کی بجائے صرف خیریت پوچھی کیونکہ کفار کو سلام جائز نہیں پھر بادشاہ کے پاس بیٹھے راھب سے مخاطب ہو کر کہا: کیا حال ہے بیوی بچے کیسے ہیں؟
اس پر رومی بادشاہ لال پیلا ہو گیا اور کہا : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہمارے راھب شادی نہیں کرتے تو ان کے بچے کہاں ہو ں گے؟؟!!
امام ابوبکر نے کہا: اللہ اکبر! اپنے راھبوں کو شادی اور بچے پیدا کرنے سے پاک قرار دیتے ہو اوراپنے رب پر الزام لگا تے ہو کہ مریم سے شادی کی اور عیسی پیدا ہوئے؟؟!!
بادشاہ نےغصے سے کہا: عائشہ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟؟!!
ابوبکر نے کہا: جس طرح یہودیوں نے مریم پرتہمت لگائی تھی اسی طرح منافقین اور روافض نے عائشہ پر تہمت لگا ئی مگر دونوں پاکدامن ہیں، فرق اتنا ہے کہ عائشہ نے شادی کی مگر کوئی اولاد نہیں ہوئی اور مریم نے شادی نہیں کی مگر اولاد ہو گئی اس لیے باطل تہمت کا خطرہ کس کو زیادہ ہے مگر اللہ کے نزدیک دونوں پاکدامن ہیں؟؟؟!!!
اس پر تو بادشاہ پاگل ہو گیا اور لال پیلا ہو کر کہا: تمہارے نبی نے کوئی جنگ کی ہے؟
ابو بکر: جی ہاں۔
بادشاہ: کیا فرنٹ لائن میں لڑتا تھا؟
ابو بکر: جی ہاں۔
بادشاہ: فتح یاب ہو تا تھا؟
ابو بکر: جی ہاں۔
بادشاہ: کبھی شکست بھی کھا یا؟
ابو بکر: جی ہاں۔
بادشاہ: یہ کیسا نبی ہے جو شکست کھاتا ہے؟
ابو بکر: تمہارا معبود کیسا ہے جس کو پھانسی دی گئی؟؟؟!!!
یہاں کافر بے بس ہو گیا کوئی جواب نہ دے سکا
تاریخ بغداد ،جلد 3 ص364 )
ایک مجلس میں رافضیوں کا علم کلام کا ایک عالم اپنے ساتھیوں سمیت موجود تھا ،کہ اسے امام قاضی ابوبکر باقلانیؒ اس مجلس میں آتے دکھائی دیئے ،تو رافضی ذاکر اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا ، لو شیطان بھی آگیا ،
قاضی ابوبکرؒ نے دور ہی سےاس کی یہ بکواس سن لی ،اور مجلس میں آکر اس شیعہ ذاکر کے سامنے بیٹھ گئے ،اور اس ذاکر اور اس کے ساتھیوں کو مخاطب کرکے فرمایا :
اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے : (أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا ) سورہ مریم 83
" ہم کافروں کے پاس شیطانوں کو بھیجتے ہیں جو انھیں خوب اکساتے ہیں "
یعنی اگر میں شیطان ہوں تو تم کفار ہو ،جن پر مجھے مسلط کیا گیا ہے ،
.:

Comments

Popular posts from this blog

لطیفے بہت لطیف ہوتے ہیں

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ

مولوی بے چارہ نورالحسن انور