علماء کی قدر کیجئے

سلیمان بن عبد الملک نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا

علم گمنام کو شہرت عطا کرتا ہے بیٹا علم حاصل کرو علم کمینے شخص کو معزز بنا دیتا ہے

علم غلام کو بادشاہ بنا دیتا ہے کیسی بہترین نصیحت کی وقت کے بادشاہ نے اپنے بیٹوں کو اسی لئے تو کہتے ہیں علمل لازوال دولت ہے اگر ہم قرآن وسنت پر نظر دوڑائیں تو ہمیں علم کے فضائیل اور علم والوں کے فضائل قرآن وسنت کے حسین گلستان میں نظر آتے ہیں اللہ جل شانہ نے اپنے پاک کلام کی عظیم سورت آل عمران میںارشاد فر مے اپنے بیٹوں سے کہا ایا

{شَھِدَ اللٰہُ اَنَّہ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ وَالْمَلَائِکَۃُ وَاُولُواالْعِلْمِ} ’’اللہ ‘ فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘


اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے اپنے ساتھ فرشتوں اور پھر اہل علم کاذکرفرمایا۔امام قرطبی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں علم کی فضیلت اورعلماء کی عظمت کاذکرہے ۔ اگر علماء سے زیادہ کوئی معزز ہوتا تواس کانام بھی فرشتوں کے ساتھ لیا جاتا۔ اسی طرح سورہ طٰہ میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا

{وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْماً} کہ اپنے رب سے علم میں اضافہ کی دعا کرو۔

گویاعلم اتنی اہمیت والی چیز ہے کہ جس میں اضافہ کیلئے مانگنے کا نبی کریم جیسی ہستی کوحکم دیاجا رہاہے ۔اگر اس سے زیادہ اہمیت والی کوئی چیز ہوتی تو اس کے مانگنے کا حکم بھی دیا جاتا۔(قرطبی) سورہ عنکبوت میں فرمایا {وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُھَا اِلَّا الْعَالِمُوْنَ} ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لیے بیان فرما رہے ہیں انہیں صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں۔

مزید ارشاد ہوا: {بَلْ ھُوَ اٰیٰتٔ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوْاالْعِلْمَ} بلکہ یہ قرآن تو روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں ‘ہماری آیتوں کا منکر بجز ظالموں کے اور کوئی نہیں۔

سورہ فاطر میں فرمایا: {اِنَّمَایَخْشَی اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰؤُا} اہل علم نے کہا یہ آیت علماء کی شان بیان کرتی ہے اور اس امتیاز کو حاصل کرنے کیلئے اللہ سے تقوی اور خشیت ضروری ہے۔ یاد رکھو کہ علم محض جان لینے کانام نہیں، خشیت و تقویٰ کا نام ہے۔ عالم وہ ہے جو رب سے تنہائی میں ڈرے اور اس میں رغبت رکھے اور اس کی ناراضگی سے بچے ۔ سورہ زمر میں فرمایا: پوچھو بھلا علماء اور جہلاء برابر ہوسکتے ہیں؟ حالانکہ نصیحت تو عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں ۔

فضیلت علم و علماء کا باب امام بخاری نے کتاب العلم میں قائم کیا ہے۔ باب العلم قبل القول والعمل اس میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ذکرکی’’ کہ جوکوئی حصول علم کیلئے نکلتا ہے اللہ اس کیلئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔ (مسلم) حضرت صفوان بن عسال سے مرفوعا ًروایت ہے کہ طالب علم کے پاؤں کے نیچے فرشتے پربچھاتے ہیں تاکہ وہ راضی رہے اور حصول علم میں دل لگا کر مشغول رہے۔ (ترمذی) حضرت کثیر بن قیس کہتے ہیں کہ میں مسجد دمشق میں حضرت ابودرداء کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی مدینہ منورہ سے ایک حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم جاننے کیلئے آیا۔ حضرت ابودردا ء نے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جو علم دین کیلئے نکلتا ہے اللہ اس کیلئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے ۔ بے شک فرشتے طالب دین کے پاؤں کے نیچے پر بچھاتے اور ارض وسماء کی ساری مخلوق حتی کہ سمندروں کی مچھلیاں گہرے پانیوں میں ان کیلئے استغفار کرتی ہیں۔ عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسے چودھویں کے چاندکی سارے ستاروں پر۔ علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں ۔یادرکھو کہ انبیاء کا ورثہ درہم ودینار نہیں ہوتا بلکہ علم دین ہوتا ہے جو جتنا زیادہ حاصل کرے گا اتنی ہی فضیلت حاصل کرسکے گا۔ (ابوداود کتاب العلم )

دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عالم کی عابد پر فضیلت اتنی ہے جتنی میری فضیلت تم میں سے عام مسلمان پر ہے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ‘ اس کے فرشتے اور ارض وسماء کی ساری مخلوق ، حتی کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں پانی میں معلم خیر کیلئے دعائے رحمت بھیجتی ہیں۔(ترمذی وابوداود)

حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں اور بے شک میں علم بانٹنے والا ہوں اور اللہ مجھے عطا فرمانے والے ہیں۔ یہ امت ہمیشہ خیر پر رہے گی‘ انہیں خوار کرنے والا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتیٰ کہ اللہ کافیصلہ آجائے۔ (بخاری)

یہ ساری فضیلتیں اس وجہ سے ہیں کہ علماء کی وجہ سے لوگ ہدایت پاتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم خیبرمیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو جھنڈا دیتے ہوئے وصیت کی تھی کہ جنگ کرنے سے پہلے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دو، اگر ایک آدمی کو بھی راہ ہدایت مل گئی تو یہ سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ قیمتی متاع ہوگی۔علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں جیسے علم اور اسکے متعلقات کا احترام ضروری ہے اسی طرح علما ء کا ادب نہایت  ضروری ہے


آج ہمارے اس زمانے میں علمائے کرام کا احترام مفقود ہے ، ہر شخص، جب چاہتاہے، جس کو چاہتاہے، کلماتِ لعن وطعن سے نواز دیتا ہے ، جب کہ یہ بات ہر وقت مستحضر رہنی چاہیے کہ وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں اور بشریت کے تقاضے ان سے بھی منسلک ہیں ، غلطی ہر بنی آدم سے ہوتی ہے ، اس بات کی تائید صحیح حدیث سے ہوتی ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”کُلُّ بَنِی آدمَ خَطَّاء، وَخَیْرُ الْخَطَّائِیْنَ التَّوَّابُون“ ہر انسان غلطی کرتاہے اور بہترین غلطی کرنے والا وہ ہے جو توبہ کرے۔ اس حدیث کو امام حاکمنے صحیح قرار دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ توبہ واستغفار اور انابت الی اللہ علمائے کرام کا شیوہ ہے ، نالہ ٴ نیم شبی اور آہِ سحرگاہی توشہٴ زندگی ہے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی جب مکہ مکرمہ تشریف لے جاتے ہیں تو لوگ مسائل کے لیے ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، فرماتے ہیں کہ اے مکہ والو! تم مسائل مجھ سے پوچھتے ہو، جب کہ تم میں ابن ابی رباح موجود ہیں یعنی عطا بن ابی رباح۔ حضرت عطاء بن ابی رباح کاشمار مشائخ تابعین میں ہوتا ہے ، مکہ میں منصب ِافتاء پر فائز تھے۔ دیکھیے حضرت عبد للہ ابن عمررضی اللہ عنہ کا ایک عالم کے لیے اتنا احترام کہ اس کے دیار میں مسائل بتلا نے سے گریز کررہے ہیں، جب کہ خود صحابی ٴ رسول ہیں اور علم میں بڑے بڑے صحابہ کے ہم پلہ ہیںآئیے عہد کریں کہ طاغوتی طاقتوں اور ان سے متاثرہ نام نہاد اہل فکرو دانش کی علماء مخالف تحریر و ں اور بیانات کو یکسر نظر انداز کرکے اللہ اور رسول کے متعین کردہ مقام و مرتبہ کو علمائے کرام کے سر کا تاج بنائیں گے اور اللہ اور رسول سے محبت و الفت کے ساتھ عمومی طور پر تمام مسلمانوں سے اور خصوصی طور پر علمائے کرام سے محبت و الفت رکھیں گے ، واللہ الموفق

Comments

Popular posts from this blog

لطیفے بہت لطیف ہوتے ہیں

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ

مولوی بے چارہ نورالحسن انور