حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ

 خَالِد بن زيد نام، ابو ایوب کنیت، مدینہ منورہ کے قبیلۂ خزرج کے خاندان نجار سے تھے، سلسلۂ نسب یہ ہے، خالدبن زید بن کلیب بن ثعلبہ بن عبد عوف خزرجی، خاندان نجار کو قبائل مدینہ میں خود بھی ممتاز تھا، تاہم پیغمبر اسلام کی وہاں نانہالی قرابت تھی اس کو مدینہ کے اورقبائل سے ممتاز کر دیا تھا، ابوایوب اس خاندان کے رئیس تھے۔

اسلام

ابوایوب انصاری ان منتخب بزرگان مدینہ میں ہیں، جنہوں نے عقبہ کی گھاٹی میں جاکر پیغمبر اسلام کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کی تھی۔ جب مکہ سے دولت ایمان لیکر پلٹے تو ان کی فیاض طبعی نے گوارا نہ کیا کہ اس نعمت کو صرف اپنی ذات تک محدودرکھیں ؛چنانچہ اپنے اہل و عیال، اعزہ واقربا اوردوست واحباب کو ایمان کی تلقین کی اوراپنی بیوی کو حلقہ اسلام میں داخل کیا۔

میزبان رسول[

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو ہر شخص میزبانی کا شرف حاصل کرنے کا خواہش مند تھا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس جگہ اونٹنی بیٹھے گی۔ وہیں آپ مقیم ہوں گے۔ اونٹنی ابو ایوب انصاری کے دروازے پر بیٹھی۔ ان کا مکان دو منزلہ تھا۔ نبی اکرم نے نیچے قیام فرمایا اور سات ماہ تک یہاں رہے۔

پیغمبر اسلام جب تک ان کے مکان میں تشریف فرما رہے، عموما ًانصار یا خود ابو ایوب پیغمبر اسلام کی خدمت میں روزانہ کھانا بھیجا کرتے تھے، کھانے سے جو کچھ بچ جاتا پیغمبر اسلام ابوایوب کے پاس بھیج دیتے تھے، ابو ایوبپیغمبر اسلام کی انگلیوں کے نشان دیکھتے اور جس طرف سے پیغمبر اسلام نے نوش فرمایا ہوتا وہیں انگلی رکھتے اور کھاتے، ایک دفعہ کھانا واپس آیا تو معلوم ہوا کہ پیغمبر اسلام نے تناول نہیں فرمایا، مضطربانہ خدمت میں پہنچے اورنہ کھانے کا سبب دریافت کیا، ارشاد ہوا کھانے میں لہسن تھا اور میں لہسن پسند نہیں کرتا، ابو ایوب نے کہا"فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَہ" جو آپ کو ناپسند ہو یا رسول اللہ ﷺ میں بھی اس کو ناپسند کروں گا۔(صحیح مسلم)[1]

مواخاتہجرت کے بعد پیغمبر اسلام نے مہاجرین وانصار کو باہم بھائی بھائی بنادیا، ابو ایوب انصاری کو جس مہاجر کا بھائی قرار دیا وہ مدینہ کے اولین داعی اسلام مصعب بن عمیر قریشی تھے۔

غزوات[ترمیم]

ابوایوب انصاری کا شمار اسلام کے جانباز مجاہدین میں ہوتا ہے۔ آپ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ کسی ایک غزوہ کے شرف شرکت سے بھی محروم نہیں رہے، امیر معاویہ کے زمانے میں قسطنطنیہ کی مہم پیش آئی تو اس میں نمایاں حصہ لیا اور وہیں وفات پائی۔ مرتے وقت وصیت فرمائی کہ شہر پناہ کے متصل دفن 

 کیا جائے۔ آپ کو وہیں دفن کیا گیا۔ آپ کی قبر کے پاس بطور یادگار ایک مسجد تعمیر کی گئی جو ترکی کی قدیم ترین مساجد میں سے ہے۔

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق رات کی تاریکی میں  ان کا جسد اقدس کو مسلمان آگے لیکر بڑھتے رہے یہاں تک قسطنطینیہ کی فلک بوس فصیل کے پاس پہنچے انہیں وہیں خاموشی سے دفن کیا دفین کے بعد انکی قبر سے ایک روشنی کی لہر نکلی اور آسمان تک چلی گی یہ عجیب منظر رومی سپاہیوں نے بھی دیکھا اور حیرت ذدہ رہ گے  اگلے دن ان کے سفیر نے آکر پوچھا یہ کون شخص ہے جسے تم نے دفن کیا جواب ملا  ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں  حضرت کی کرامت دیکھ کر بہت سے رومی مسلمان ہوئے۔۔۔۔۔ شرح سیرالکبیر للسرخی235جلد نمبر1






Comments

Popular posts from this blog

لطیفے بہت لطیف ہوتے ہیں

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ

مولوی بے چارہ نورالحسن انور