بھوک کروادیتی ہے سودا ضمیر کا نورالحسن انور
بھوک تو بھوک ہے اس کو مٹانےکے لئے کتنے جتن انسان کرتا ہے اور بھوکھے کو دینے کے لئے کتنے ادارے ہیں مگر بھوک پھر بھی اپنے قد موں پر کھڑی ہے مٹنے کا نام نہیں لیتی اس لئے کہ ہم اسے مٹانے کے لئے مخلص نہیں ایک تھیلا دے کر سیلفیاں بنانا ہی ہمارا مقصد ہے ایک تھیلا 20 آدمی سیلفیان لے رہے ہیں کتنی عجیب سوچ ہے حضرت انساں کی اس بھوک کی خاطرانسان اپنی عز ت نفس گروی رکھ دیتا ہے کسی کی گالیاں بھی سن لیتا ہے ہاں اس بھوک کے واسطے چھوٹو بن کر مار بھی کھالیتا ہے اور گالیاں بھی۔ لیکن چلو اس کے بدلے اس کا پیٹ تو بھر جاتا ہے۔ بھوک کا مطلب کوئی اس سفید پوش سے پوچھے جس کو اپنا بھرم بھی رکھنا ہے اور معصوم بچوں کا پیٹ بھی بھرنا ہے۔ جبکہ ظالم زمانے کی نظروں میں سرخرو بھی ہونا ہے۔ ان کو بھوک کا کیا مطلب معلوم ان کا کیا لینا دینا جو ایک وقت ہزاروں کا کھانا منگوا کر کہتے ہیں بالکل مزے کا نہیں اور ویٹر کو بل ٹپ دے کر نکل جاتے ہیں بھوک کا مطلب ان کو کیسے سمجھ آسکتا ہے جنہوں نے کبھی گندے نالوں سے پانی بھرا ہو تو کبھی کوئی سوکھی روٹی گیلی کی ہو۔ کبھی کسی کتے سے روٹی کے لیے دھینگا مشتی کی ہو۔ یہ بھو ک ہی ہوتی ہے ک...